عنوان: (2) موسم سرما
روئے زمین پر موسموں کی تبدیلی ایک جغرافیائی عمل ہے جس کے نتیجے میں مختلف موسم جیسے موسم گرما، موسم سرما، موسم بہار اور موسم خزاں وغیرہ وجود میں آتے ہیں۔ ان موسموں میں ایک موسم سرما بھی ہے جسے جاڑے کا موسم بھی کہتے ہیں۔ موسم سرما کی مدت ماہ نومبر سے فروری تک ہوتی ہے۔ دسمبر اور جنوری ماہ میں موسم سرما شباب پر ہوتا ہے۔
اس موسم میں کافی سردی پڑتی ہے۔ ہوا میں ٹھنڈی چلتی ہیں۔ ٹھنڈک سے بدن میں کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ لحاف سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔ آگ کے پاس سے ہٹنے کی طبیعت نہیں کرتی۔ دھوپ پیاری لگتی ہے۔ امرا اور دولت مند لوگ اپنے جسم کو ہمیشہ اونی کپڑوں سے اور شالوں سے ڈھکے رہتے ہیں۔ ہاتھوں میں گرم دستانے اور پاؤں میں گرم موزے پہنتے ہیں۔ اس موسم میں غریبوں کو بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ اپنے جسم کو آگ جلا کر گرم کرتے ہیں۔ راتوں کو پوال میں گھس کر سوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں برف جم جاتی ہے۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں جس کی وجہ سے انسان، حیوان، چرند و پرند کی بہت ساری جانیں تلف ہو جاتی ہیں۔ غریب طبقے کے لوگوں کے لیے یہ پریشانی کا موسم ہوتا ہے۔
اس موسم میں عام طور پر لوگوں کو سردی، زکام، کھانسی، میعادی بخار اور نمونیا وغیرہ جیسی بیماریاں ہو جاتی ہیں۔ دن چھوٹا اور راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ طلبا کو کھیلنے کو وقت نہیں ملتا اس لیے اکثر کھیل اس موسم میں نہیں کھیلے جاتے۔ اس موسم میں محنت کا موقع زیادہ ملتا ہے۔ نیا غلہ گھروں میں آتا ہے۔ کسانوں کے چہرے پر مسرت و خوشی چھائی رہتی ہے۔ کھانے کی چیزیں سڑتی نہیں۔ اس موسم میں عمدہ اور بہتر غذا ئوں کے استعمال کا موقع حاصل ہوتا ہے۔

कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें